اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ریاست جموں و کشمیر کے ابتر حالات اور کشمیریوں کی تحریک حق خود ارادیت کے خاتمے کیلئے بھارت کے استعماری ہتھکنڈوں کو توسیع پسندانہ عزائم کی بدترین مثال سے تعبیر کرتے ہوئے آرپار فوجی سربراہوں کے کشمیر سے متعلق خیالات کو زمینی حقائق کے عین مطابق قرار دیا۔ آغا حسن نے کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک سیاسی معاملہ ہے جو ایک سیاسی حل کا متقاضی ہے۔ اب جبکہ بھارت اور پاکستان خطے کی دو جوہری قوتیں ہیں جس کے تناظر میں تنازعہ کشمیر کے کسی فوجی حل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آر پار فوجی قیادت کا یہ نظریہ کہ تنازعہ کشمیر صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے ایک ناقابل تردید حقیقت ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے دونوں ممالک کو اب ایک سنجیدہ موقف اختیار کرکے بلا تاخیر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔ آغا حسن نے شام پر امریکی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے خطے کے اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے جس سفاک ترین دہشتگرد تنظیم کو پالا پوسا تھا اس کا صفایا دیکھ کر واشنگٹن اور اسکے خلیجی حلیفوں کی نیند اڑچکی ہے۔ شام پر جارحیت امریکہ ، اسرائیل اور انکے خلیجی حلیفوں کی بوکھلاہٹ کا ہی نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام پر آگ برسانے سے شامی عوام خوف زدہ ہوکر امریکی عزائم کے آگے سرنگوں نہیں ہونگے بلکہ امریکی جارحیت خطے میں امریکہ نواز حکومتوں کیلئے الٹی گنتی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ آغا حسن نے مقتدر عالم دین اور بھارت کے معروف اسلامی اسکالر علیل حجۃ الاسلام والمسلمین قلب صادق لکھنوی کی جلد صحت یابی اور صحت و سلامتی کیلئے دعا کی۔ انہوں نے ملت امامیہ کشمیر سے اپیل کی کہ وہ جید عالم دین قلب صادق کی شفایابی کیلئے دعا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲